Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

‏اک کبوتر نبی کے روضے کا اپنی قسمت پہ ناز کرتا تھا

 ‏اک کبوتر نبی کے روضے کا

اپنی قسمت پہ ناز کرتا تھا




اس کبوتر نے یہ ارادہ کیا

قبر زہرا میں دیکھ آؤں ذرا


اس کو لگتا تھا جب وہ جائے گا

ایک تعمیر روضہ پائے گا


قبر بے حد حسیں بنی ہوگی

لاڈلی بیٹی تھی محمد کی


راضیہ ،مرضیہ لکھا ہوگا

سیدہ، طاہرہ، لکھا ہوگا


‏آیت إنما لکھی ہوگی

مدحت فاطمہ لکھی ہوگی


آہ! پہنچا تو کیا سماں دیکھا

قبر زہرا کو بے اماں دیکھا


روپڑا وہ عجیب غربت تھی

دھوپ تھی فاطمہ کی تربت تھی


اس کبوتر کے اشک تھے جاری

کررہا تھا وہ گریہ و زاری


روکے کہتا تھا اے نبی زادی

آپ کے بابا سے کہوں گا ابھی


صاف کہہ دونگا ان سے یہ جاکر

ایک چادر نہیں تھی تربت پر


قبر آقا تمہاری بیٹی کی

پسلیوں کی طرح شکستہ تھی،


میر سجادؔ اس کبوتر نے

روکے وعدہ کیا یہ بی بی سے


اب بنے گا نہ جب تلک روضہ

آپ کے بابا کی قسم زہرا


زندگی جنگلوں میں گزرے گی

میں مدینے نہ آؤں گا بی بی 


Post a Comment

0 Comments